IT WAS MY WARM WELCOME IN KARACHI 1985

......... عزیز دوستو! میری والدہ، نانی،ممانی،بڑھے ماموں،چھوٹے ماموں اور میری بہن نے بڑی خوشی سے میرا استقبال کیا اور اس وقت مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ واقعی میں میرے ان رشتوں کو میری ضرورت تھی اور میں نے یہاں آ کر میں نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے .آتے ہی میرے کچھ نیے کپڑے،جوتے اور بالوں کی کٹنگ وغیرہ کرا دی گیی .گویا میں اس وقت بہت اہم سا ہو گیا تھا .لیکن

یہاں آ کر میں نے کچھ دیکھا جو کہ بیان کرنا ضروری ہے بھی اور نہیں بھی.بیان کرتا ہوں تو دل کو عجیب سی تکلیف ہوتی ہے اور اگر چھوڑ دیتا ہوں تو میری یہ یہ عجیب داستان ادھوری رہ جاتی ہے وہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ میری والدہ نے شادی کر لی تھی ..............................میرا باپ جو زندگی بھر وفاداری نبھاتا رہا اور نا صرف وفاداری نبھائی بلکہ اپنی انا کو بھی مرنے نہیں دیا .ان بی انا یہ تھی کہ میری بیوی مجھے پوچھے بغیر گئی ہے تو واپس بھی خود ہی آے گی پر شائد نا تو ایسا ہونا تھا اور نا ہی ایسا ہوا اور پھر انا اور ،وفا اور بے وفائی کی چکی میں می اور میری بہن دوسرے لفظوں میں ہم یعنی اولاد پس گیی .محرومیوں اور خواہشات کے سمندر میں غوطے کھاتے رہے میں نے جب آتے ہی اپنے نیے والد محترم کو جب دکھا تو بہت برا سا لگا پر میں نے اس کا اظہار نہیں کیا.اور ان والد محترم کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ مجھے یہ جوڑ اچھا نہیں لگا.اور شائد میری یہی بات ان کو اچھی لگی اور انہوں نے مرتے دم تک مجھے اچھا جانا اور میرے ساتھ اچھا کیا. اچھا یہ کیا کہ انہوں نے اور چھوٹے ماموں نے جو مل کر اور والدہ نے بھی محنت کر کہ گھر بنایا تھا وہ میرے نام کر دیا اور پھر قیوم آباد کراچی میں جو پراپرٹی تھی وہ میرے نام ہو گیئ  . عزیزو! میرے اس بلاگ گو پڑھنے والے شائد مجھ سے نفرت کرنے لگیں پر کیا کروں جو کچھ حقیقت ہے وہی تو بیان کر رہا ہوں  اس سارے والدہ اور باقی لوگوں کے پیار محبت میں میں تعلیم کو نہیں بھولا اور پھر ....................................................


_____________________________________________________________________________

Translation

......... Dear friends! My mother, grandmother, mamani, older uncles, younger uncles and my sister welcomed me with great joy and at that moment I realized that I really needed these relationships and I came here and I was fine. The decision has been made. As soon as I arrived, some of my clothes, shoes and haircuts were done. It was as if I had become very important at that time.

But

Coming here, I saw something that must be told or not. It hurts my heart to tell, and if I give up, this strange story of mine remains incomplete. That was the painful thing. That my mother was married .............................. My father who has been faithful all his life and not only loyalty He did not even let his ego die. His ego was that if my wife left without asking me, she would come back on her own. In the mill of fidelity, me and my sister, in other words, we, the children, have passed away. And what did he not allow his father to realize that I did not like this connection. It is good that he and his younger uncles and mother worked hard to build a house in my name and then the property in Qayyumabad Karachi became my name. Dear! Those who read this blog of mine may start hating me, but what can I do, I am just stating the truth. In the love of all these mothers and other people, I have not forgotten education and then ........ ................................................

                                                     







  

Comments

Popular posts from this blog

I Lost My First Baby

There is another incident/Explosion had happened in my life

Marriage Of My sisters