Posts

RETURN TO ROOTS

Image
میرے عزیز پیارے انتہائی قابل احترام دوستو اور رشتے دارو آ داب کافی عرصے کے بعد لکھنے کا موقۓ  ملا ہے اور اس دوران اتنی تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ کیا بتاؤں  دستو سن ١٩٨٥ میں کراچی جانے والا اقبال یوسف آ ٢٠٢٤ میں مستقل پنجاب آ اور کراچی کی سختیوں اور پریشانیوں سے تنگ آ کر میں نے پنجاب کا رخ کیا کراچی نے میرا بہت کچھ چھین لیا یوں تو میں آ کو بتا چکا ہوں کہ میرے دادا میرے ابو میرا بڑی دادی سب میرے کراچی جانے کے بعد اس دنیا سے کوچ کر گئے  اب میں پجاب تو آ پر گوجرانوالہ کے گاؤں ادوراے میں نہیں بلکہ راولپنڈی اسلام آباد میں رہاش اختیار کی اس جگہ پر میرے سسرال والے رہ رہنے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ہمارے لیے ترقی کے مواقعے زیادہ ھیں سال ٢٠٢٤ کے جنوری سے میری بیوی چھوٹی بیٹی اور بڑا بیٹا یہاں آ چکے ہیں اور میں میری بڑی بیٹی ٢٠ جنوری ٢٠٢٤ کو یہاں آے میری بیٹی اور بیٹے کو تو فروری ٢٠٢٤ میں نوکری مل گیی ، میری بیوی کو بھی پاس کے سکول میں نوکری مل گی پر میں ابھی تک بے روزگار ہوں سختیوں کا سامنا ہے پر خداوند میں پر امید ہوں کہ جب اس کی مرضی ہو گی سو نوکری مل ہی جائے گی. دوستو ا...

There is another incident/Explosion had happened in my life

Image
 میرے عزیز دوستو میں آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں جو میری ان ذاتی سی باتوں میں دلچسپی لیتے اور ان کو ایسے ہی محسوس کرتے ہیں جیسے میں ان کو لکھتا ہوں عزیزو گو کہ یہ میری ذاتی باتیں ہیں پر شائد میرے ساتھ ہونے والے یہ  واقعات اپپ کے مشاہدے میں یا خود کے ساتھ رونما ہوے ہوں  میرے محترم دوستو حال ہی میں ایک واقعه میری زندگی میں پیش آیا جو میں سوچ  نہیں سکتا تھا ہوا یوں کہ جب سے میرے سالے کی فوتگی ہوئی تھی میں ذاتی طور پر بڑا ہی غمگین تھا میرے اس کے ساتھ بڑے اچھے دن گزرے تھے میں کوشش کر رہا تھا کہ سالے کی بیوی بچوں کو کسی قسم کی  پریشانی نہ ہو کیونکہ اب اس گھر میں میرے علاوہ کوئی بڑا نا تھا پر میں نہیں  کہ ایک انتہائی بےغیرت شخص امریکہ میں بیٹھ کر رہنمائی کر رہا ہے کیوںکہ میرے سالے کی بیوی کا اس بےغیرت آدمی سے مسلسل رابطہ تھا اور وہ اس کو باقائدہ بتاتا تھا کہ اب کیا کرنا ہے پھر امریکہ سے تحفہ تحائف آنے شروع ہو گئے راتوں ٹیلیفون  باتیں رہتی. ادھر سے ہدایت یہ تھی کہ ان کو کسی طرح اس گھر سے نکال دو تاکہ جو ہم رات بھر بات چیت کرتے ہیں ان کو اور باقی خاندان والوں کو پ...

THE BIGGEST AND HEART BEAKING INCIDENT IN MY LIFE

Image
 A month ago on August 3, 2022 between seven and eight in the morning when I, my wife and my elder daughter were ready for the newly started school, our rickshaw was standing in the street to take us and I was the principal of my previous school. I had just returned after informing the gentleman that someone called on my wife's brother's wife's phone saying that my elder son and his elder son have met with an accident and the condition is bad. I had just come back from the previous school when I ran back downstairs and my brother's younger son had started the motorcycle in the street. I and Aqil's younger son also went to the accident site on the motorcycle. We were still at Steel Mill Chowrangi. So there was a traffic jam ahead, we somehow reached the Byko petrol pump, but by that time, people had put brother Aqil and son Ashban in an ambulance and they took them to the first 100-bed hospital and we assumed that they were Steel Mill Chowrangi. They will divert the ...

A Big Worst Incident in My Life

Image
دوستو! آداب میں آپ سب کا مشکور ہوں جو وقت نکال کر میری زندگی کے حقیقتوں کو جانتے ہیں.---- یہ سن ٢٠٢٠ مئی کے مہینے کی بات ہے -- میرا بیٹا میتھیو جو  سن ٢٠١٩ میں پاکستان نیوی کی فوج میں بھرتی ہوا تھا ایک دن صبح قریباً سات بجے کے قریب گھر آیا وہ فوجی یونیفارم میں ہی تھا --- گھر آ کر یونیفارم اتارا اور یہ کہ کر سویا کہ مجھے گیارہ بجھے اٹھا دینا مجھے کام ہے جب گیارہ بجے تو مئی نے اپنی بیگم سے کہا کہ ہنی کو اٹھا دو اس نے کہا تھا ہم میتھیو کو گھر میں ہنی کہتے ہیں ------ صبا نے اس کو اٹھا دیا وہ اٹھا اور تیّار ہوا دوپہر ہو گئی میتھیو کی ماں نے پراٹھا بنا کے دیا وو کھا کر نکل گیا کوئی چار بجے کا وقت ہو گا مجھے اس کا فون آیا کہ پاپا آپ کہاں ہیں میں بات کر رہا تھا کہ اس نے بات بند کر دی اور پھر اس کے دوست نے فون کیا کہ میتھیو کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے جناح ہسپتال آ جائیں بس پھر میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی میں نے اپنے سالے کو ساتھ لیا ارو چپکے سے موٹر بائیک پر نکل آے اور جناح میں پہنچے تو میتھیو وہاں نہیں تھا میں اور سالہ بلکہ میرا ایک طالب علم اور خالہ کا بیٹا ہے ہم نے وہاں ڈھونڈا لیکن وہاں نہیں ت...

HARBOR LIGHT SCHOOL AND ASSEMBLIES OF GOD CHURCH

Image
ہیلو دوستو ! اسلام و علیکم ! آج ہم بات کو وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے ہم نے چھوڑا تھا ہاربر لائٹ سکول کو ہم نے سن ٢٠١٥ میں شرو کیا اور جن بچوں کو لے کر چلے تھے بڑے ہی کمزور تھے ہم نے محنت کر کے ان کو اس قابل بنایا کے وہ دسویں کا امتحان دینے کے قابل ہو گئے پر عزیزو ہمیں طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا ہم ہر مہینے بھکاریوں کی طرح پادری پرویز سے ما نگا کرتے تھے کے ہمارے پاس  پیسے ختم ہو گئے ہیں ہمیں دیں اور وہ ہم پر احسان کر کے ہمیں دیا کرتے تھے ان کو ایسا کر کے اچھا لگتا تھا اور ہمیں یہ سب کر کے برا ----- وقت کے ساتھ حالات کچھ ایسے  ہوگئے کہ  ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم یہ سکول چھوڑ دیں گے پر ہر روز یہ بحث ہوتی کہ پادری پرویز برا منائیں گے کہ مجھے بیچ میں چھوڑ دیا ہمیں یہ بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ ہمیں اس طرح خوار کردیں گے دوستو اس سکول میں کم از کم مجھے کبھی بھی سکول جیسا ماحول نہیں لگا اور نہ مجھے وہاں اپنی تعلیمی صلاحیت کو استعمال کرنے کا موقح نصیب نہیں ہوا ------- تو عزیزو پھر فیصلہ ہو گیا -----  وہ کیسے اس شخص کو علاقے سے بھاگ کر جان بچانی پڑی جو کبھی اس علاق...

HARBOR LIGHT SCHOOL STAFF AND STUDENTS

Image
میرے عزیز او پیارے دوستو ! میں خوش ہوں کیونکہ مجھے دو دن سے لکھنے کا موقع مل رہا ہے - تو عزیزو میں آپ کو ہاربر لائٹ سکول میں اپنی اور اپنی بیوی کی ٹیچنگ کے بارے میں بتا رہا تھا ----- یہ سکول ایسا تھا کہ نا تو سارے سٹوڈنٹ یونیفارم میں آتے تھے اور نا ہی باقاعدگی سے آتے تھے چھٹی کرتے پر اس پر ذرا بھی ندامت نہیں ہوتی تھی کہ ہم آج چھٹی پر ہیں تو سکول کے اساتذہ کے سامنے نا جائیں کہ کہیں وہ یہ نا نا سمجھ لیں کہ ہم نے چھٹی کا بہانہ کیا ہے- بلکہ وہ تو اساتذہ  کو خاص طور سے سلام کرنے اور سامنے سے گزرنے کو اپنا فخر سمجھتے تھے- ہوم ورک نا کر کے آنا ان کی روزانہ کی عادت میں شامل تھا-نا وہ ٹھیک سے دئے گئے ٹسٹ کی تیاری کر کے آتے تھے. اور جب میں ذرا سختی کرنے کی کوشش کرتا تو سکول کی پرنسپل صاحبہ کہہ دیتیں کہ اتنی سختی نا کیا کریں پھر میں تو معاون تھا برا سا منہ بنا کے رہ جاتا تھا کہ اب سکول کی پرنسپل کا حکم ہے تو ماننا ضروری ہے - ادھر ٹیچرز کی بھی ایک الگ ہی کہانی تھی دو ٹیچرز دوران سکول اپنے بچوں کو دودھ پلاتے کھانا کھلاتے تھے ایک وں میں سے بریسٹ فیڈ بھی کرتی تھیں مجھے یہ دیکھ کر برا تو لگتا تھا ...

NEW JOB IN HARBOR LIGHT ASSEMBLIES OF GOD SCHOOL EIDO GOTH KARACHI PAKISTAN

Image
دوستو ! ہیلو! مجھے پوری امید ہے آپ سب خدا کے فضل سے اچھے ہوں گے - خدا آپ کو تندرست و توانا رکھے - تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ ہم دونوں میاں بیوی نے ہار بر لائٹ اسمبلیز آف گاڈ میں بطور پرنسپل اور وائس پرنسپل کے نوکری شروع کر دی - یہ مارچ ٢٠١٥ اور اپریل ٢٠١٥ کی تاریخ تھی مارچ میں میری بیوی امبر صبا نے اور اپریل میں میں نے شروع  کی. اور پھر ایک ڈے کیر جیسے سکول میں ہم بیس سال سے اوپر کے تجربہ کار اساتذہ نے پڑھانے کا بیڑا اٹھا لیا - راستہ بیشک کٹھن تھا پر ہم دونوں نے اسے اس طرح سے لیا کہ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو صرف پیسوں کے لئے کام نہیں کرتے بلکہ انسانیت کی ترقی کے لئے بھی کرتے ہیں تو ہم نے بھی یہی سمجھ کر اس سکول کو شروع کیا. ابتدا میں اس سکول میں مشکل سے ٦٠ یا ٧٠ بچے ہوں گے جو کہ نرسری اور کے جی سے لے کر چھٹی جماعت تک تھے اس سکول میں پادری پرویز کے اپنے بچے اور ہماری دونوں بیٹیاں بھی تھیں. جو ٹیچرز سکول میں کام کرتی تھیں ان میں دو اور ٹیچرز کے بچے بھی تھے - تو ایک ایک کلاس روم میں دو یا تین کلاسوں کو ایک ساتھ بیٹھا کر پڑھایا کرتے تھے اور ہم دونوں نے کبھی چھوٹی کلاسوں کو پڑھای...