THE BIGGEST AND HEART BEAKING INCIDENT IN MY LIFE
A month ago on August 3, 2022 between seven and eight in the morning when I, my wife and my elder daughter were ready for the newly started school, our rickshaw was standing in the street to take us and I was the principal of my previous school. I had just returned after informing the gentleman that someone called on my wife's brother's wife's phone saying that my elder son and his elder son have met with an accident and the condition is bad. I had just come back from the previous school when I ran back downstairs and my brother's younger son had started the motorcycle in the street. I and Aqil's younger son also went to the accident site on the motorcycle. We were still at Steel Mill Chowrangi. So there was a traffic jam ahead, we somehow reached the Byko petrol pump, but by that time, people had put brother Aqil and son Ashban in an ambulance and they took them to the first 100-bed hospital and we assumed that they were Steel Mill Chowrangi. They will divert the ambulance and then go with them to the hospital and stand there waiting and they will take them first to 100 beds and then to Ayesha General Hospital. So that they can get first aid quickly, when the two hospital staff responded, she took my brother Aqil Raza and my dear nephew Ishban Gul to Jinnah Hospital, the scholar who ran away, died on the spot of my dear brother Aqil Raza. The eyewitnesses say that because when we went there, people had put them in the ambulance, so we saw our beloved brother and son in the hospital when I and Abraham, who is also the beloved younger son of Aqil Raza. When I went to the hospital, Abraham was coming out towards me after seeing the dead body of his dear father Aqil Raza until he parked his motorbike in my parking lot. While running, I went to where my dear brother Aqil Raza was being laid on a stretcher, and a white sheet was placed on him. It happened to my Aqeel too....... and when I removed that cloak from my brother Aqeel, my dear Aqeel Raza was also lying down lifeless... ....😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭 I did not understand at that time what to do for my dear brother Aqil. When I understood a little that my dear son Ashban was also in serious trouble, I started begging the doctors that Dr. God has saved us dear Aqil. They did not give us a chance to save Raza but save our son Ishban. At that time Wu was in great pain-------- repeatedly complaining of his back pain saying look at my back.....look at my back-----but at that time I And all the rest of the people who came to Jinnah Hospital were praying, but what happened was what God had planned ------------------------------------------------- Pass Ja Panhacha ------------ Dear two lives in one house and also in the state of youth, our sister, mother-in-law, mother-in-law and father-in-law left Rawalpindi after hearing about the accident and at eleven o'clock at night. came to Then what happened ------ you all know all the other arrangements------ elder brother Anjum Zia came and took over---------- and other relatives from Rawalpindi. After his arrival, the shroud was buried. It has been a month since this incident, but I don't know why I also think about it. ----
___________________________________________________________________________________
ایک ماہ پہلے ٣ اگست ٢٠٢٢ کی صبح سات سے آٹھ بجے درمیان جب میں عمری بیوی اور میری بڑی بیٹی جب حال ہی میں شروع کردہ سکول کے لئے تیار تھے ہمارا رکشا گلی میں ہمیں لے کر جانے کے لیے کھڑا تھا اور میں اپنے گزشتہ سکول پرنسپل صاحب کو مطلع کر کے واپس آیا ہی تھا کہ میری بیوی کے بھائی کی بیوی کے فون پر کسی نے فون کیا کہ میرے سالہ اور ان کے بڑے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے حالت خراب ہے جلدی آ جائیں - میرے سالے کی بیوی چلانا شروع ہو گیی میں ابھی پہلے والے سکول سے واپس آیا ہی تھا کہ واپس نیچے بھاگا اور گلی میں بھائی کے چھوٹے بیٹے نے موٹر سائکل سٹارٹ کر لی تھی میں اور بھی عاقل کا چھوٹا بیٹا موٹر سائکل پر جائے حادثہ پر گئے ہم ابھی سٹیل مل چورنگی پر تھے تو آگے ٹریفک جام تھی ہم کسی طرح بائکو پٹرول پمپ تک پنہچ گئے پر اس وقت تک بھائی عاقل اور بیٹے اشبان کو لوگوں نے ایمبولنس میں ڈال دیا تھا اور وہ ان کو پہلے ١٠٠ بیڈ ہسپتال لے گئے اور ہم یہ سمجھے کہ وہ سٹیل مل چورنگی سے ایمبولنس موڑ کر لائیں گے تو پھر ان کے ساتھ ہسپتال جایئں اس انتظار میں کھڑے رہے اور وہ ان کو پہلے ١٠٠ بیڈ پھر عایشہ جنرل ہسپتال میں پھراتے رہے کہ کہیں ان کو جلدی فرسٹ ایڈ مل جائے جب دونوں ہسپتال والوں نے جواب دیا تو وہ میرے بھائی عاقل رضا اور میرے پیارے بھتیجے اشبان گل کو جناح ہسپتال کے لئے لے کر بھاگے والا عالم میرے پیارے بھائی عاقل رضا کی موقح پر ہی وفات ہو گئی تھی عینی شاہدین کہتے ہیں کیوں کہ ہم تو جب وہاں گئے تو لوگوں نے ان کو ایمبولنس میں ڈال دیا تھا لہذا ہم نے اپنے پیارے بھائی اور بیٹے کو ہسپتال میں ہی جا کر دیکھا تھا جب میں اور ابرہام جو پیارے بھی عاقل رضا کا چھوٹا بیٹا ہے ہسپتال گئے تو میرے پارکنگ میں موٹر بائیک کھڑی کرنے تک ابرہام اپنے پیارے والد عاقل رضا کی لاش دیکھ کر میری طرف باہر نکل رہا تھا - اس نے بڑی ہمت کر کے مجھے بتایا کہ پھوپھا بابا نہیں رہے میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی میں پھر بھی بھاگتا ہوا جہاں پیارے بھائی عاقل رضا کو اسٹریچر پر ڈال رکھا تھا گیا تو اس پر سفید چادر ڈال رکھی تھی مجھے ڈاکٹر صاحب کہ رہے تھے بھائی حوصلہ کریں پر مجھے یہ بات پریشان کر رہی تھی کہ میں یہ پوچھ رہا تھا کہ بتا دیں کیا ہوا میرے بھی عاقل کو ....... اور جب میں بھائی عاقل سے وہ چادر ہٹائی تو نیچے میرے پیارے بھی عاقل رضا بے جان پڑے تھے .......😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😥😥😥😥😥😥😥 میں دل کے عارضہ والا ہوں دل پکڑ کر وہیں پیارے بھی عاقل بے جان جسم کے پاس کھڑا ہو گیا مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا اس وقت کہ اپنے پیارے بھائی عاقل کے لئے کیا کروں جب تھوڑا سا سمجھ آیا کہ پیارا بیٹا اشبان بھی کڑی مشکل میں ہے تو ڈاکٹروں کی منت کرنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب خدا نے ہمیں پیارے بھی عاقل رضا کو بچانے کا موقعہ نہیں دیا لیکن ہمارے بیٹے اشبان کو تو بچا لیں انہوں نے مجھ سے کہا بھائی خدا سے دعا کریں سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے --------- میں نے اپنے بیٹے اشبان سے بات بھی کی اس وقت وو بے حد تکلیف میں تھا -------- بار بار اپنی کمر کی تکلیف کی شکایت کر رہا تھا کہ میری کمر کو دیکھو..... میری کمر کو دیکھو ----- پر اس وقت میں اور باقی سارے لوگ جو جناح ہسپتال آ گئے تھے دعائیں کر رہے تھے پر ہوا وہے جو خدا نے طے کر رکھا تھا -----------😢😢😢😢😢😢اشبان گل جانبر نہ ہو سکا اور خدا کے پاس جا پنہچا ------------- عزیزو ایک گھر میں دو جانیں اور وو بھی جوانی کی حالت میں ہماری بہن میری ساس ماں اور سسر جی راولپنڈی سے حادثے کا سنتے ہی روانہ ہو گئے اور رات گیارہ بجھے تک آ گئے. بس پھر کیا ------ باقی سارے انتظامات اپ سب جانتے ہیں ------- بڑے بھائی انجم ضیاء نے آ کر سنبھال لئے ---------- اور دوسرے راولپنڈی سے آنے والے رشتے داروں کے آنے کے بعد کفن دفن کر دیا گیا اس وقعے کو مہینہ ہو گیا پر پتا نہیں کیوں مجھے ابی بھی اس کے خیال آتے ہیں------- خدا بھائی کے دونوں بچوں اور بیوی کو صبر عطا کرے آمین -------


Comments
Post a Comment