Education Journey is Continued 22052022
.......... جب اس کو پتا چلا کہ میں نے آئس کریم کھانے کی بجاے پھینک دی ہے تو خفا ہوئی پر مجھے اس کی پروا نا تھی. عزیز دوستو ! روتھ عمانویل میری گلی ہی میں رہتی تھی آتے جاتے شائد کبھی کبھار سامنا ضرور ہو جاتا تھا پر نا اس نے مجھے سچائی سے چاہا تھا اور نا ہی میرے اندر اس کے بارے میں وہ احساس پیدا ہوا جو پیارکا ہوتا ہے البتہ وہ کبھی کبھار میری بہن کو دکھانے کے لیے شائد میری طرف مائل ہو جاتی تھی. اور پھر بہن خوش ہو جاتی تھی میری سہیلی میرے بھائی کو پسند کرتی ہے اور حقیقت میں ایسا کچھ بھی نا تھا. وہ اکثر علاقے میں موجود اس لڑکے سے ملنے جایا کرتی تھی جس کا نام جاوید ڈھولکی تھا وہ چرچ میں ڈھولک بجاتا تھا اس پر لڑکے اسے اس نام سے پکارتے تھے.لڑکا کافی مکار تھا اس کی اور بھی اسی طرح کی دوستیاں تھیں پر روتھ کو یہ معلوم نا تھا. پھر کیا تھا رفتہ رفتہ وہ میری زندگی سے نکل گئی اور اسی دوران شائستہ جو میری کلاس فیلو تھی آئی ہمارے درمیان کافی اچھی انڈر سٹینڈنگ ہو گئی بات آگے بڑھی اور والدہ کو پتا چلا تو انہوں نے کہا کہ وہ میری ذات ہے اس لئے یہ بات آگے نہیں جا سکتی . یہ دور بڑا عجیب لگتا ہے آج جب میں سوچتا ہوں کیونکہ وہ جو پڑھائی کا دور تھا میرے گھر والوں نے مجھے اس طرف سوچنے کی ترغیب دی . بہرحال یہ دور رفتہ رفتہ گزارنے لگا اور میری تعلیم کا سلسلہ آگے بڑا . میں نے فرسٹ ائر میں داخلہ لے لیا میرا کالج چند لوگوں کے مشورے سے "فیڈرل گورنمنٹ اردو سائنس کالج منتخب ہوا. اور اس وقت بی گریڈ کافی اچھا سمجھا جاتا تھا داخلہ فارم جمح کرانے گئے تو انہوں نے کہا کہ فیس بھی جمع کرائیں . پھر اسی وقت گھر آ کر فیس لے کر جا کے داخلہ کرا دیا اور پھر کالج کا سفر شروع ہوا. میرا یہ کالج کو ایجوکیشن تھا ہماری کلاس میں چند لڑکیاں بھی تھیں. پر میرا کسی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا تھا.روزانہ کالج جانا اور باقاعدہ کلاسیں لینا میری روز کی روٹین تھی. اسی دوران جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو میرا پروگرام واپس گاؤں کا چکر لگانے کا بن گیا سو میں نے کالج سے رعائتی فارم بنوایا اور پھر پنجاب جانے کا قصد کیا اس دفعہ میں ساتھ میں والدہ بہنوں اور میرا جو لے پالک بھائی تھا وہ بھی گیا بڑا اچھا لگ رہا تھا کیونکہ میں والد صاحب کو ان کی بیوی سے ملانے کامیاب ہونے جا رہا تھا. پر کیا پتا تھا کہ یہ ملانا میرا صرف خیال ہی ہے..................
Translation
.......... When she found out that I had thrown away the ice cream instead of eating it, she got angry but I didn't care. Dear friends! Ruth Emmanuel used to live in my street, sometimes she would come face to face with me, but she did not really love me and I did not have the feeling of love for her, but sometimes she was my sister. Probably inclined towards me to show. And then the sister would be happy. My friend likes my brother and in fact there was nothing like that. She used to go to the area to meet the boy whose name was Javed Dholaki. He used to play dholak in the church and the boys used to call him by that name. It was not known. Then what happened? Gradually she got out of my life and at the same time Shaista who was my classmate came. There was a good understanding between us. Can't go any further. This era seems very strange today when I think because it was the era of studies, my family encouraged me to think in this direction. However, it started to pass slowly and my education continued. I took admission in the first year. My college was selected on the advice of a few people. "Federal Government Urdu Science College was selected. And at that time B grade was considered quite good. At the same time I came home, took the fee, got admitted and then the college journey started. It was my college education. There were some girls in our class. But I had nothing to do with anyone. Taking classes was my daily routine. Meanwhile, when the summer holidays came, my program was to go back to the village, so I made a discount form from college and then decided to go to Punjab. The foster brother was also gone. I was feeling very good because I was going to be able to reunite my father with his wife. But did you know that reunion is my only idea .........


Comments
Post a Comment