Journey To Success 21052022

 ......... عزیزو میرے پیارے دوستو اتنے دن بلاگ نا لکھنے کی معذرت کرتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ میری گ میل آئی ڈی بند ہو گئی تھی یہ تو نا جانے وہ کون سی میری جان سے پیاری شخصیت ہے جس کی دعاؤں سے میری ای میل دوبارہ سے کھل گئی تو میں دوبارہ اس قابل ہو سکا کہ پھر سے لکھنا شروع کر سکوں سو می حاضر ہو گیا ہوں..... تو میرے پیارے دوستو! میں آپ کو اپنی زندگی کے ان اوراق کی سیر کروا رہا تھا جو کبھی میں نے بھی نہیں کھولے.تو میں یہ بتا رہا تھا کہ میں جن پیاروں کے لئے ان عظیم ہستیوں کو چھوڑ کر اس بے رخی دنیا میں داخل ہوا تھا ان لوگوں نے میرے دل نہیں میلاے  میں ان کے لئے ہمیشہ ہی الگ تھلگ رہا اکثر ان کے ساتھ میری نوک جھونک چلتی رہی. میری بہن جس کی محبت میں اور کمی کو پورا کرنے کے لئے میں کراچی آیا تھا اس کو میری پابندیوں سے اکتاہٹ ہونے لگی اور پھر میں تو ٹھہرا پنجابی اقدار کا پلا مجھے یہ کراچی کی بہن بیٹیوں میں یہ بے باقی اور آزادانہ پن بلکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا  میں اپنی اس اکتاہٹ کو پھر ان کے ساتھ اکھڑی اکھڑی باتیں کر کے نکالتا تھا پر یہ محبت نا تھی بس وقت پاس کرنا بن گیا .میں جب کبھی ان کے ساتھ رشتےداروں کی شادی بیاہ میں شریک ہوتا تو بھی الگ تھلگ کیوں کہ میری والدہ کے سارے رشتے داروں میں کوئی بھی نا تو پڑھا لکھا تھا اور نا ہی کوئی پڑھ رہا تھا. سو میرا ان کے ساتھ گھلنا ملنا کیسے ہو سکتا تھا.میری خالہ کی بیٹی بھی پڑھ رہی تھی اور شائد اس امید پر کے تعلیم مکمل کر کے میرے ساتھ اس کو جوڑ دیا جاتا لیکن قسمت کو کھچ اور ہی منظور تھا.اور ہاں ایک اور حقیقت سے چلتے چلتے پردہ اٹھا دوں . وہ یہ کہ جب میں کبی بچپن میں کراچی اپنی والدہ ساتھ آیا .......... تو میرے ساتھ اس بچپن میں ایک بڑی خوبصورت مگر نا مکمل کہانی جڑی ہوئی تھی یہ کہانی کہنے کو تو بڑی پیاری تھی پر کراچی کی یہ خوبصورت کہانی میری زندگی کا حصّہ نا بن سکی.  عزیز  روتھ عمانویل تھی. کہنے کو بہت پیاری لیکن بڑی چالاک . ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ وہ کراچی میں پیدا ہوئی پلی بڑھی تھی.جب میں پنجاب سے پہلی مرتبہ کراچی آیا تو اس وقت سے ہی اس کا اور میرا وہ بچپن جاگ اٹھا جس میں ہم دونوں بچکانہ پیار کے رشتوں سے بندھے ہوے تھے .......... ....... ........ مھجے شائد وہ پیار لگتا تھا پر اس لڑکی کا وہ میرے ساتھ دھوکا تھا کیونکہ اس کی علاقے میں ایک اور لڑکے کے ساتھ کہانیاں بن چکی تھیں جو مجھے میرے بچپن کے دوست بجلی نے بتایا .جو بعد میں ثابت   بھی ہو گیا پر دوستو! میں نے اس کے ساتھ کوشش کی تھی کے پیار ہو ہی جائے پرمیں ناکام رہا. ایک دفعہ جب ہم نوویں جماعت میں تھے اور وہ دسویں میں جو سکول میں لیبارٹری نا ہونے کی وجہ سے ہم سینٹ پال انگلش سکول کی لیبارٹری کو استعمال کرتے تھے اور ہماری مطلب میری دسویں بھی سینٹ پال انگلش سکول کی ہے ہم وہاں پریکٹیکل کے لیے جب گۓ تو بریک ٹائم میں آئس کریم کھاتے تھے تو اس نے میرے لیے بھی لی جو میں غصے سے نہیں کھائی ........... 

 

____________________________________________________________________________

Translation

Dear friends, I apologize for not blogging for so many days, the reason is that my Gmail ID was blocked, I don't know who is my dearest person. With his prayers, my e-mail reopened and I was able to start writing again, so I came ..... So my dear friends! I was taking you on a journey through the pages of my life that I never opened. My heart did not melt, I was always isolated for them. My sister, whom I had come to Karachi to love and to fill in the gaps, began to get tired of my restrictions and then I stayed with Punjabi values. I didn't think I would get rid of my boredom by talking to them again, but it was not love, it was just passing the time. Of all my mother's relatives, none was literate and no one was reading. So how could I get along with them. My aunt's daughter was also studying and maybe after completing her education in this hope she would be attached to me but luck was on her side. And yes another one. Let me lift the veil while walking from reality. That when I came to Karachi with my mother in my childhood .......... I had a very beautiful but incomplete story attached to me in my childhood. It was very sweet to tell this story but Karachi This beautiful story could not be a part of my life. Dear Ruth was Emmanuel. Very cute to say but very clever. It should have happened because she was born and raised in Karachi. When I came to Karachi for the first time from Punjab, her and my childhood was awakened from that time in which we were both bound by childish love relationship ... ........ ........ I may have felt that love but this girl was cheating on me because stories have been made with another boy in her area. My childhood friend Bijli told me that which was later proved but friends! I tried to be in love but failed. Once when we were in the ninth grade and in the tenth we used the laboratory of St. Paul's English School because there was no laboratory in the school and I mean the tenth of St. Paul's English School. He used to eat ice cream at break time, so he took it for me which I did not eat angrily ...........




Comments

Popular posts from this blog

I Lost My First Baby

There is another incident/Explosion had happened in my life

Marriage Of My sisters