NOW TIME OF JOUNEY TO KARACHI THE CITY OF LIGHTS
عزیز دوستو ایک وقت آیا کہ میں اور دادا جان دونوں چچا جان کے پاس رہنے کے لیے چلے گئے والد صاحب تو پہلے ہی سے وہاں رہ رہے تھے ہم بھی ان کے پاس چلے گئے .اور پھر میرا دل روز بروز کراچی کے لئے تیار ہونے لگا اور پھر کراچی کے بجاے میں اور میرا ایک دوست .ہم نے پروگرام بنایا کہ ہم میر پور آزاد کشمیر جہاں میرے چچا زاد بھائی اپنی فیملی سمیت نوکری کرتے تھے جائیں گے اور وہاں پڑھائی کے ساتھ کوئی نوکری بھی کریں گے.چلے تو ہم گئے پر وہاں بھی ناکامی ہی ملی زندگی میں ناکامیاں ہی تھیں ابھی تک . اور میں روز بروز محرومیوں کا بوجھ اٹھاۓ پھر رہا تھا دل میں عجیب سی خلش سی تھی کہ میرے ساتھ ہی ایساکیوں ہے اور دوستو! پھر وہ گھڑی آ ہی گئی جب موصوف نے کراچی کا قصد کر ہی لیا .یہ قصد بھی کیا تھا گاؤں سے فرار اور ماں اور بہن سے ملنے کی تمنا کراچی کھینچ لائی میں بس کسی بھی طرح ابا جان سے پیسے لے کر دوست نما چچا کے ساتھ ڈھائی سو روپے کا ٹکٹ لے کر جو اب دو ہزار سے اوپر کا ہے ٹرین میں سوار ہو گیا اور فی اگلے دن شام میں کراچی اپنی والدہ اور بہن کے پاس پہنچ گیا ...........
____________________________________________________________________________
Translation
Dear friends, there came a time when grandfather and I both went to live with uncle John, father was already living there, we also went to him. And then my heart started getting ready for Karachi day by day. And then instead of Karachi and a friend of mine. We made a program that we will go to Mirpur Azad Kashmir where my cousins used to work with their family and will also do some work there along with their studies. There have been failures in life so far. And I was carrying the burden of frustrations day by day. Then came the time when he had set his sights on Karachi. He had also set out on this journey. With a ticket of RS. 2000.


Comments
Post a Comment