The Nights Of The Villages and Atmosphere
میرے پیارے عزیزو اور دوست! میرا یہ دور آج مجھے بڑا اچھا لگتا ہے پر اس وقت اس دور کو گزارنا بڑا کٹھن تھا میرے دوست اپنے ماں ،باپ اور بہن بھائیوں کیساتھ خوشی سے وقت بتایا کرتے اور میں دن بھرساری مصروفیت کے بعد اکیلا خاموش گھر میں اپنے دادا جی کے ساتھ چند تلخ یا اچھی نصیحت کے بعد سونے کی تیاری کرتا اور سرے دن کا تھکا ہارا سو جاتا تھا. عبادات کے پروگراموں میں شوق سے جانا اور پھر کنونشنوں میں بھی شوق سے جاتا تھا.رات بھر گیت زبور اور اپنی بنائی ہوئی دھنوں کو سن کر خوشی سے جھومنا بڑا ہی دلچسپ وقت تھا .پھر میں جب تھوڑا بڑا ہوا تو ہمارے گاؤں کے گیتوں کے استاد جی کا میں منظورے نظر ہو گیا . استاد جی مجے اپنےساتھ بٹھاتے اور گیت گانے میں مجھے سکھاتے کہ کیسے گانا ہے.ویسے بھی مجھے گانے کا شوق تھا اور خدا نے ممجھے آواز بھی اچھی جس کی وجہ سے استاد جی نے مجھے بہت جگہ سکھایا پھر میں باقی لڑکوں سے زیادہ مقبول ہو گیا .اسی دوران میرے بھائی بھی اور پھوپھا بھی تھے وہ اور میں مل کر کافی دیر تک قریب موجود نہر کے کنارے بیٹھ کر خوب گانے کی مشق کیا کرتے تھے اور پھر مجھے شوق ہوا تو میں نے ایک اچھی قسم کی ڈھولک خرید لی اور پھر خوب دن میں ریاض کیا کرتا اور ساتھ میں انڈین گانے بھی گیا کرتا تھا.میں اپنے دوستوں میں بڑا مشہور تھا میری آواز خدا نے بڑی خوبصورت دی تھی جو خدا کی مہربانی سے ابی بھی کافی اچھی ہے.میں اس وقت چون سال کا ہوں اور میں یہ ساری باتیں بارہ سے پندرہ سال کی عمر کی بتا رہا ہوں .دوستو! میں لکھتا جا رہا ہوں اور باتیں یاد آتی چلی جا رہی ہیں اور وقت گزرتا گیا اور میری عمر اور پڑھائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا.گاؤں میں جب کوئی نئی چیز آتی تو دھوم مچ جاتی. جیسے نیا نیا وی سی آر آیا تو رات میں جب وہ لوگ اس پر فلمیں لگایا کرتی تھے تو ہم سارے دوست بھی دیکھنے جایا کرتے تھے. کھلے میدان میں بڑے ٹی وی پر جب فلمیں لگتی تھیں تو ہم رات رات تک دیکھا کرتے تھے. دوستو! رات کافی ہو گئی ہے ابھی خدا نے چاہا تو کل پھر بات ہو گی ........
______________________________________________________________________________
Translation
My dear friends and acquaintances! I like this time of mine very much today but it was very difficult to spend this time. My friends would happily spend time with their mother, father and siblings and I would spend the day alone in a quiet house alone with my grandfather. After a few bitter or good advices, he would get ready for bed and go to bed tired after a long day. I used to go to worship programs with enthusiasm and then I used to go to conventions with pleasure. I got the approval of Ustad Ji. The teacher would take me with him and teach me how to sing. Anyway, I loved to sing and God gave me a good voice because of which the teacher taught me a lot and then I became more popular than the other boys. At the same time my brother and uncle were also there. He and I used to sit on the bank of the nearby canal for a long time and practice good singing. I used to do Riyadh during the day and I also used to sing Indian songs. I was very famous among my friends. I am telling all these things to the age of twelve to fifteen years. Friends! I am writing and I am remembering things and time has passed and my age and education have been increasing. When the new VCR came, at night when those people used to put movies on it, all our friends used to go to see it. We used to watch movies on big TV in the open field till late at night. Friends! The night is over now, God willing, we will talk again tomorrow ........


Comments
Post a Comment