I have kicked out from My Morning Job and soled our own House
ہیلو دوستو! میں روز صبح اندھیرے نکلتا تھا شہر میں سالویشن آرمی نوکری کے لیے اور دوپہر میں سینٹ فرانسس زوئیر ہائی سکول میں اور پھر شام ٥ بجے چھٹی میں گھر کے لئے سفر شروع کرتا تھا اور پھر گھر پنہچتے شام ہو جاتی تھی.ان ہی دنو میں سکول انتظامیہ کی طرف سے نوٹس ملا کہ آپ کی نوکری ختم ہوگئی ہے آپ کا حساب کردیا گیا ہے . آپ وہ لے لیں اور دوبارہ کنٹریکٹ دستخط کریں اساتذہ نے شور تو کیا پر انتظامیہ کے آگے کسی کی نہیں چلتی- پھر سب سے دوبارہ کنٹریکٹ دستخط کروا لیے پر میرے سمیت چند اساتذہ سے نہیں- ہم نے بھی کہا ٹھیک ہے جب ان کو ہماری ضرورت نہیں تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے ہم نے اپنا حساب لیا اور سالویشن آرمی کو خیر آباد کہا اور پھر میری زندگی میں ایک اور تبدیلی آئی - وہ یہ کہ میں نے اپنے سالے کے کہنے پر پیلی ٹیکسی خریدنے کا ارادہ کیا -خیال یہ تھا کہ گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ مزدوری بھی کروں گا . دوستو چھوٹے والے سالہ صاحب نے لانڈھی میں ایک چلتے چلتے ٹیکسی کے پیچھے سیل اور نمبر دیکھا اور ساتھ ہی اپنے خیال کا اظہار کیا کہ بھائی ٹیکسی بڑی اچھی ہے خرید لو - جب بڑے سالے نے ٹیکسی دیکھی تو اس نے اور بھی تعارف کی مجھے اس وقت بلکل تجربہ ناتھ ان دونوں کے کہنے پر میں جو مجھے سالویشن آرمی سکول سے روپیہ ملا تھا میں نے خرچ کر کے ٹیکسی خرید لی دوستو. اور پھر میرے برے دن پھر سے شروع ہو گئے ٹیکسی مجھے ہی چلانی تھی بڑے سالے سے دو تین دن کی ٹریننگ لینے کے بعد میں نے ٹیکسی چلانا شروع کر دی ڈرائیونگ مجھے پہلے ہی آتی تھی صرف تھوڑی بہت جھجھک تھی جو دور ہو گئی. لیکن دوستو ! ابھی ٹیکسی کو زیادہ دن نہیں ہوے تھے کہ ایک دن علاقے کے اندر والے روڈ پر ٹیکسی بند ہو گئی جب میں ہمارے گھر کے نزدیک بیٹری کے مکنیک کو کال کر کے بلوایا تو اس نے چیک کر کے بتایا کہ گاڑی کا انجن سیز ہو گیا ہے. یوں سمجھو کہ گاڑی آئی کو ابھی چند دن اور گاڑی نے ابھی مزدوری کی نہیں کہ کم و بیش ٣٠ ہزار روپے کا خرچہ نکل آیا. اس وقت قیوم آباد والے گھر کا سودہ ہو رہا تھا اس میں میں نے کہا کے بھائی مجھے اس میں سے کچھ رقم دو تو میں سیل اگریمنٹ پر دستخط کروں گا تو اس مد میں مجھے وہاں سے ٦ لاکھ روپے دیے گئے. میں نے وہ گھر جو میرے نام تھا یعنی ایک جائیداد جو کہ اجج لاکھوں کی ہے چند ہزار میں بیچ ڈالی.------------ اور پھر وہ پیسہ کسی خاص مقصد میں کام نا آیا. اس کی تفصیل میں آپ کو کل بتاؤں گا.----------------
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Translation:
Hello friends! I would go out in the dark every morning for a Salvation Army job in the city, and in the afternoon at St. Francis Xavier's High School, and then at 6 o'clock in the evening I would start my journey home for the holidays and then return home in the evening. Received notice from management that your job has been terminated. You take that and re-sign the contract. The teachers made noise but no one walks in front of the administration. Then they re-signed the contract but not with some teachers including me. We also said ok when they need us. If not then what can be done? We took our account and said goodbye to the Salvation Army and then another change came in my life - that I decided to buy a yellow taxi at the request of my brother-in-law - the idea was this I will do household chores as well as labor. Dosto, the younger one, saw the cell and number behind a moving taxi in Landhi and at the same time expressed his opinion that brother taxi is very good. Buy it. At the request of both of them, I spent the money I got from Salvation Army School and bought a taxi. And then my bad days started again. I had to drive the taxi. After taking two or three days training from the older year, I started driving the taxi. Driving was already coming to me. But friends! It was not long before the taxi stopped on the road inside the area. When I called the battery mechanic near our house, he checked and told me that the engine of the car had stopped. . Assume that the car came a few days ago and the car has not paid the wages yet, the cost of approximately Rs. At that time the house in Qayyumabad was being sold. In it I said, "Brother, give me some of this money, then I will sign the sale agreement. In this regard, I was given Rs. 500,000 from there." I sold the house which was in my name, that is, a property which is worth millions, for a few thousand. I will tell you in detail tomorrow.


Comments
Post a Comment