Only Jesus and Love of affair and Lot Of Frustration
میرے پیارے دوستو! آج کل بجلی اتنی تنگ کرتی ہے کے کچھ بھی ڈھنگ سے نہیں ہو رہا میری آپکی ملاقات بھی اسی کی نظر ہو رہی ہے.. تو دوستو میرے گھر میں ان دنوں صرف یسوع کہنے والے لوگوں کو قبضہ ہو چکا تھا وہ لوگ ابھی بھی کراچی ہی میں موجود ہیں اور ان کا کام زوروں پر ہے ہمارے ایمان کی دھجیاں اڑا رہے ہیں او ہم کچھ بھی نہیں کر پا رہے. پر دوستو میں نے جب اپنے گھر میں قدم رکھا تو وو میرے نام سے پہلے ہی واقف تھے تھوڑا ان کو جھٹکا لگا دوستو ! بڑی دکھ بھری کہانیاں میرے ساتھ جڑی ہوئی ہیں میں جب ڈرگ روڈ میں تھا تو میری دونوں بہنوں نے اپنے لئے ایک ایک محبوب بنا لیا تھا بیشک یہ بات مجھے نہیں کرنی چاہیے پر کیا کروں حقیقت بتاے بغیر آگے بڑھ نہیں سکتا جب میں قیوم آباد سے نکلا تھا تو اس ان رشتوں کی بنیادیں اتنی مضبوط نا تھیں پر میرے وہاں سے جانے پر یہ مضبوط ہو گئی اور پھر جن دنوں میں میں چھوٹی بہن کو بیٹے کی خاطر لے کر گیا تھا اس کو لینے ایک دو بار جب وہ لڑکا جو کہ قیوم آباد میں ہمارے پڑوسی تھے آیا تو مجھے اور میری بیوی کو اسی دم اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا لیکن میں اس وقت خاموش رہا کہ میری والدہ میری باتوں کا برا نا منائیں . میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری ذات سے کسی کو دکھ نا پہنچے . لیکن پھر بھی نا جانے میرے یہ عزیز رشتے کبھی بھی مجھ سے خوش نہیں ہوۓ . ناراض ہی رہتے تھے اور اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ میرا بچپن ان رشتوں سے علیحدہ گزرا تھا . پھر کیا میں روز ان دونوں بہنوں کی وجہ سے کڑھتا تھا لکن بڑی والی کا کھانا تھا میری شادی سے پہلے وہ کہا کرتی تھی کہ بھائی آپ کی شادی ہو گئی تو آپ کو کس نے پوچھنا ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں. اور پھر اس نے یہ کر کا دکھا دیا . کچھ عرصے کے بعد گھر میں کافی بعد امنی سی ہو گئی حالات دن بدن بگڑنے لگی. اورص کی سب سے بڑی وجہ میرے لے پالک بھائی جو والدہ نے اپنے بھائی سے لے کے پالا تھا وہ میرے لیے وبالے جان بن گیا. دستو میں ان سارے حالت سے روز جیتا اور مارتا تھا پر والدہ اور بہنوں کی صحت پر کچھ اثر نا تھا . کیا کیا بے ترتیب تھا میرے بیان سے باہر ہے لیکن میں پھر بھی لکھوں گا کیونکہ میری زندگی کے وہ خوبصورت لمحات ان مسائل کو سلجھانے میں گزر گئے ................
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Translation:
My dear friends! Nowadays the electricity is so tight that nothing is happening properly. My meeting with you is also being watched by him. I am here and their work is in full swing. They are destroying our faith and we are not able to do anything. But friends, when I stepped into my house, he was already familiar with my name, he was a little shocked, friends! Big sad stories are connected with me. When I was in Drug Road, my two sisters made one for themselves. Of course, I shouldn't do this, but what can I do? I can't move forward without telling the truth when I leave Qayyumabad The foundation of this relationship was not so strong but when I left it became stronger and then in the days when I took my younger sister for the sake of my son to take her once or twice when the boy who is Qayyum When I was a neighbor in Abad, my wife and I immediately realized that something was not going well, but I remained silent so that my mother would not take my word for it. I always tried not to hurt anyone. But still, my dear relatives were never happy with me. I was angry and the main reason was that my childhood was separated from these relationships. Then I used to eat every day because of these two sisters but there was food for my elder sister. Before my marriage she used to say that brother you are married so who are you to ask what we should do and what we should not do. And then he pretended to do it. After some time, the situation in the house became very peaceful and the situation started getting worse day by day. The biggest reason for Ors was that my foster brother, who was raised by his mother from his brother, became a scapegoat for me. All these conditions in Dastu had no effect on the health of mother and sisters. What was random is beyond my description but I will still write because those beautiful moments of my life were spent in solving these problems ................


Comments
Post a Comment