Problem Creator forgotten son and my sisters
عزیز دوستو! سلام ! لکھنا تو روز چاہتا ہو پر بجلی ساتھ دے تو لکھوں وقت پر آتی ہی نہیں سارے کام بگڑے ہوے ہیں اس کی وجہ سے. تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ میری والدہ نے اپنے بھائی سے ایک بیٹا لے کے کر پالا تھا جو اب جوان ہو چکا تھا اور نا جانے کیوں وہ ساری باتوں میں میرے جیسا بننا چاہتا تھا اور گھر کے اندر بھی وہ چاہتا تھا کہ اس کی عزت میرے جیسی ہو پر گھر میں بڑا تھا تو ایسا ہو نہیں سکتا تھا . تو پھر وہ دن بدن بگڑتا چلا گیا. حالانکہ میں نے اس کی تعلیم بھی کروائی اگر میں اس کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے میٹرک بھی نا کرواتا تو وہ انپڑھ ہی رہ جاتا پر دوستو اس کی حرکتیں انپڑھ لوگوں سے بھی بدتر تھیں میں نے اس کو کمپیوٹر کا کورس بھی کروایا اور پھر جناح ہسپتال میں ٹریننگ بھی کروائی جس کے دوران اس کی ایک سٹاف نرس سے اچھی بن گئی اور پھر میں نے نا چاہتے ہوے بھی اس شادی میں شریک ہوا . کیونکہ اس نے مجھے بہت باتوں میں ذلیل کرنا شروع کر دیا تھا. گھر میں نشہ کر کے آنا اور احر بہنوں کو مارنا اور تنگ کرنا اس کا معمول بن گیا تھا میری شادی میں میں نے اس کے لیے وہ سب بنوایا جو میں نے اپنے لئے بنوایا تھا. اس کو الگ سے خرچہ دیا کہ شادی میں وہ یہ محسوس نا کرے کے میں کام نہیں کرتا تو میرے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں .ہر لحاظ سے اس کا خیال رکھا مگر وہ کہتے ہیں سانپ کی فطرت نہیں بدلتی چاہے آپ اس کو جتنا بھی دودھ پلاؤ وہ ڈسنے سے باز نہیں آتا میرے لے پالک بھائی نے بھی ایسا ہی کیا بچپن سے اس کو اپنے بچوں کی طرح پالا پر بڑے ہو کر اس نے میرے ہی سامنے کھڑے ہو کر مجھے ہی گالیاں دن اور میرا جینا دوبھر کردیا پر میں نے پھر بھی والدہ کے کہنے پر اس کی شادی میں شرکت کی اس کی دلہن کو بارے اہتمام کے ساتھ کیماڑی سے بیاہ کر گھر لے کے آیا . دوستو حالانکہ وہ پہلے ہی کورٹ میرج کر چکے تھے یہ صرف دنیا کو دکھانے کے لئے تھا. میں نے بطور والد اس کے نکاح نامہ پر دستخط کے اور اس کو اور اس کی بیوی کو گھر لایا. وہ بچی بڑی ہی نیک تھی اور گھر کو بسانے والی تھی پر یہ صاحب اس وقت تک خوب نشے پر لگ چکے تھے وہ جناح اسپتال میں نوکری کر رہی تھی بڑی بری ایمان داری سے شادی کو نبھا رہی تھی پر میرے لے پالک بھائی صاحب نے تو ٹھان رکھی تھی کہ اس کو چین کی سانس نہیں لینے دینا. روز اس کو مارنا اس کا معمول بن چکا تھا اور بیچاری اس ظلم کو سہ رہی تھی اس کے اس رویے کی دو بنیادی وجوہات تھیں . ١. اس نے پسند کی شادی کی تھی ٢. ماں باپ کی مرضی کے خلاف کی تھی. میرے عزیزو ! جب ان دونوں کا جب افئیر ہوا تو لڑکی نے والدہ کو بلایا دیکھنے کے لئے تو لڑکی کی والدہ نے کہا کہ مجھے لڑکا پسند نہیں آیا. اب ایمی جو اس میری بھابی کا نام تھا شادی پہلے وہ جو اکثر بچیاں گلتی کرتی ہیں کرا چکی تھی یعنی بچے کی ماں بننے والی تھی شادی تو کرنی ہی پڑی پر وو یہ شادی کر کے پچھتائی ............. بیچ میں دو بار وو اس کی مار سے تانگ آ کر اپنے کسی رشتے دار کے گھر رہنے لگی اور اس کے اس ریشتے دار نے کہا کہ اس کا بھائی تو میں اس کو بھیجوں گا ورنہ نہیں پھر میں گیا اور اس کو واپس لایا لیکن میں نے گلتی کی کیونکہ اس کا رویہ بدلہ نہیں. ایک بار تو اس کی واضح سے میرے بھائی کے بیچ بہت لڑائی ہوئی تو اس نے کہ دیا کہ تمہارا اس کے ساتھ افئیر ہے پھر کیا میں پھر اس کو بہت مارا اور اس دن نشہ میں تھا جب صبح نشہ اترا تو کہنے لگا بھائی دیکھو مجھے گلی کے لڑکے نے بہت مارا ہے میں اس کو چھوڑوں گا نہیں . الغرض میرا جینا دوبھر تھا.......
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Translation:
Dear friends! Peace, Greeting ! If you want to write every day, but if you give it with electricity, then it doesn't come on time. All the work is spoiled because of this. So I was telling you that my mother raised a son from her brother who was now young and I don't know why he wanted to be like me in all things and even inside the house he wanted to It could not have happened if I had grown up at home with the same dignity as me. Then it got worse and worse. Even though I had taught him, if I had not reprimanded him and matriculated him, he would have remained illiterate, but his actions were worse than those of illiterate people. I also gave him a computer course and then Jinnah Hospital. I also did the training during which one of the staff became better than the nurse and then I participated in this marriage against my will. Because he started humiliating me a lot. It had become his habit to come home drunk and beat and harass his sisters. In my marriage I made for him everything that I had made for myself. I paid him separately so that in marriage he would not feel that I do not work, so I have nothing to spend. Even if you give him milk, he does not stop biting me. My foster brother did the same thing. He has raised him like his own children since childhood. Growing up, he stood in front of me and abused me. He still attended his wedding at the request of his mother and arranged for his bride to be brought home after marrying Kemari. Friends, even though they were already married, it was just to show the world. I, as a father, signed his marriage certificate and brought him and his wife home. The girl was very kind and was going to settle down in the house but this gentleman was very drunk by that time. She was working in Jinnah Hospital. He was determined not to let China breathe. It had become his habit to kill her every day and the poor woman was suffering from this oppression. There were two main reasons for her behavior. . He had a marriage of choice. Was against the will of the parents. My dear When the two had an affair, the girl called her mother to see her. The girl's mother said that she did not like the boy. Now Amy, who was the name of my sister-in-law, had already got married. Twice in the meantime, Wu got tired of her beating and started living in the house of one of her relatives. But I made a mistake because his attitude is not revenge. Once there was a big fight between my brother and he said that you have an affair with him then I hit him again and he was drunk that day when he got drunk in the morning he said brother look at me The street boy has hit so hard I won't steal it. The purpose of my life was double .......



Comments
Post a Comment